اسلام آباد کے جی الیون کچہری کے باہر مبینہ خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں سے 30 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
سرکاری ذرائع نے واقعے کی ذمہ داری افغان طالبان کی پراکسی تسلیم شدہ گروہ ’’فتنۃ الخوارج‘‘ اور مبینہ بیرونی حمایت کے ساتھ منسوب کی ہے۔ واقعہ کچہری کے مرکزی گیٹ کے نزدیک پیش آیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود وکلا، راہگیر اور سیکیورٹی اہلکار متاثر ہوئے؛ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم چار پولیس اہلکار بھی زخمی ہیں اور سات زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کرنے کی کارروائیاں شروع کر دیں۔ آئی جی اسلام آباد پولیس، چیف کمشنر اور دیگر اعلیٰ افسران بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ بھی وہاں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے طبی امداد کی ہدایات جاری کرتے ہوئے زخمیوں کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کی تاکید کی۔
ابتدائی شواہد اور فورنزک ٹیموں کی تفتیش کے دوران جائے وقوعہ سے انسانی اعضاء سمیت متعلقہ شواہد برآمد کیے گئے ہیں اور ہلاک شدگان و زخمیوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ حملہ آور کچہری کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا مگر سیکیورٹی سخت ہونے کی وجہ سے اندر نہ جا سکا اور پھر موقع ملنے پر پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
ہسپتال حکام نے بتایا ہے کہ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو وُسعِ علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ متضاد اطلاعات کے مطابق بعض سرکاری عہدیداروں نے زخمیوں کی تعداد 27 بتائی جبکہ تیز ترین طبی رپورٹس میں یہ تعداد 30 درج کی گئی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ وانا میں حالیہ حملے اور موجودہ واقعے کے تناظر میں افغانستان سے شواہد فراہم کیے گئے ہیں اور بیرونی رابطوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ کچہری حملہ میں ملوث تمام کردار سامنے لائے جائیں گے اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
بار ایسوسی ایشن نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے احتجاجی طور طریقہ کار اپنانے کا اعلان کیا ہے اور مقامی بار نے اگلے روز عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی واقعے کی مذمت کی اور متاثرین کے اہلِ خانہ سے اظہار ہمدردی کیا۔