کراچی میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ محض تین دن کے اندر شہر کی تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی کے آلات نصب کرنا عملی طور پر ممکن نہیں، کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں مطلوبہ فائر سیفٹی آلات ہی دستیاب نہیں ہیں۔
فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ منگل کی شام جاری کی گئی، جس کی تفصیلات بھی منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد فائر سیفٹی کے حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔
چیئرمین آباد حسن بخشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں جن عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے بڑی تعداد 30 سے 35 سال پرانی عمارتوں پر مشتمل ہے، جن میں جدید فائر سیفٹی نظام پہلے سے موجود نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ آباد کے اراکین کی جانب سے گزشتہ 15 سے 20 سال کے دوران تعمیر کی گئی عمارتوں میں زیادہ تر فائر سیفٹی کے مناسب اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم اس سے قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کے بلڈرز کو ہدایت دی جا چکی ہے کہ وہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
واضح رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے پورے کراچی میں تین روز کے اندر فائر سیفٹی سسٹم نصب کرنے کا الٹی میٹم جاری کیا تھا۔ ایس بی سی اے کے مطابق ادارے نے اس حوالے سے چیئرمین آباد کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر آگاہ بھی کر دیا ہے۔