پرنس اینڈریو، جو بادشاہ چارلس سوم کے بھائی اور سابق برطانوی شہزادے ہیں، کو حراست میں لیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے، جب کہ ان کی گرفتاری سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق انہیں تھانے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں وہ اپنی گاڑی کی پچھلی نشست پر موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں صبح کے وقت اس شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے کمسنوں سے جنسی تعلقات کے مجرم جیفری ایپسٹین کو مبینہ طور پر خفیہ سرکاری دستاویز فراہم کی، اور حراست کے دوران انہیں عام قیدی کی طرح رکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق کراؤن پراسیکیوشن سروس کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو سکتی ہے، تاہم پرنس اینڈریو کے کیس میں عمر قید کی سزا کا امکان کم قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں قانونی کارروائی یا ممکنہ قید سے کوئی خصوصی استثنیٰ حاصل نہیں تھا، اور گرفتاری سے قبل نہ تو بادشاہ کو آگاہ کیا گیا اور نہ ہی بکنگھم پیلس کو اس بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔
مزید بتایا جا رہا ہے کہ حالیہ عرصے میں گرفتار کیے جانے والے وہ برطانیہ کے پہلے شاہی فرد ہیں، جس کے باعث یہ معاملہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔