محکمہ موسمیات نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن 3 مارچ کو ہوگا، جب چاند زمین کے سائے میں آ کر سرخی مائل روشنی میں نظر آئے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک اہم فلکیاتی مظہر ہے جسے عام طور پر “بلڈ مون” بھی کہا جاتا ہے۔
سال 2026 کا یہ پہلا مکمل چاند گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوگا جب زمین سورج اور چاند کے عین درمیان آجائے گی، جس کے باعث چاند مکمل طور پر زمین کے سائے میں چھپ جائے گا اور اس پر سرخ یا نارنجی رنگ کی جھلک نمایاں ہوگی۔ فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظر سائنسی اعتبار سے نہایت دلچسپ اور خوبصورت تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں چاند گرہن کا آغاز دوپہر 1 بج کر 44 منٹ پر ہوگا، جبکہ 2 بج کر 50 منٹ پر چاند کو باقاعدہ گرہن لگنا شروع ہوگا۔ مکمل چاند گرہن شام 4 بج کر 05 منٹ پر ہوگا اور یہ شام 4 بج کر 34 منٹ پر اپنے عروج پر پہنچے گا۔
گرہن کے اختتام کا مرحلہ شام 5 بج کر 03 منٹ پر شروع ہوگا اور رات 7 بج کر 23 منٹ پر یہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ یہ فلکیاتی منظر آسٹریلیا، شمالی و جنوبی امریکا سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکے گا، جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں دن کی روشنی کے باعث اسے جزوی طور پر ہی دیکھا جا سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین کا سایہ چاند پر مکمل طور پر پڑتا ہے اور سورج کی براہِ راست روشنی چاند تک نہیں پہنچ پاتی۔ تاہم زمین کے ماحول سے گزرنے والی روشنی کی کچھ شعاعیں چاند کو سرخ یا نارنجی رنگ دے دیتی ہیں، جس کی وجہ سے اسے “بلڈ مون” کہا جاتا ہے۔
ماہرین فلکیات نے واضح کیا ہے کہ چاند کا سرخ دکھائی دینا ایک خالص قدرتی اور سائنسی عمل ہے، اور اس کا کسی غیر معمولی، ماورائی یا خطرناک تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔