اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے توشہ خانہ جعلی رسیدوں سے متعلق کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کیے جانے کا تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی کی چھ اور بشریٰ بی بی کی ایک درخواست ضمانت پر احکامات جاری کیے گئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف ایسا کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ انہوں نے کسی کو بغاوت پر اکسایا۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ استغاثہ یہ بھی ثابت نہ کر سکا کہ احتجاجی مظاہرے بانیٔ پی ٹی آئی کی ایما پر ہوئے یا وہ ان واقعات کے وقت جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ عدالت نے نو مئی کے احتجاج اور اقدامِ قتل کے مقدمات میں بھی شواہد کی عدم موجودگی کا ذکر کیا اور کہا کہ پراسیکیوشن ان الزامات کے حق میں قابلِ قبول ثبوت فراہم نہیں کر سکی۔
حکم نامے کے مطابق اعلیٰ شخصیات کے خلاف الزام تراشی کے مقدمے میں بھی بانیٔ پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت پچاس، پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرنے کا حکم دیا۔