وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار سے ضلع باجوڑ میں توپ خانے اور مارٹر گولوں کے ذریعے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چار شہری جاں بحق جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوگیا۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ آج دوپہر تقریباً 3 بج کر 30 منٹ پر افغان طالبان نے باجوڑ کے علاقے سالارزئی، تبستہ لیٹئی میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ایک گھر مارٹر گولے کی زد میں آیا جس کے باعث چار معصوم شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہوا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ شامل ہیں اور چاروں آپس میں بھائی تھے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر مقامی افراد نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان کے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے معصوم شہریوں کو دانستہ نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ کارروائیاں دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ مل کر کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حملے بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آپریشن غضب للحق کی مؤثر کارروائیوں کے باعث افغان طالبان اور دہشتگرد شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں، اسی وجہ سے وہ بزدلانہ حملوں پر اتر آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے ذمہ دار افغان طالبان کی چوکیوں اور انفراسٹرکچر کو مناسب اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔