بحرین نے آبنائے ہرمز میں طاقت کے استعمال کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری لینے کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کا مقصد اہم بحری راستے پر جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قرارداد میں ’تمام ضروری اقدامات‘ کی اجازت دینے کی سفارش شامل ہے، تاکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سکیورٹی اقدامات کو قانونی جواز فراہم کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق بحرین نے ایک بحری اتحاد قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے عمل کو محفوظ بنایا جا سکے اور عالمی تجارت کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ فرانس بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق ایک متبادل قرارداد تیار کر رہا ہے، جو سلامتی کونسل میں زیر غور آ سکتی ہے۔
ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کر دیا ہے، جو عالمی سطح پر تیل و گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی صرف امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ہے، جبکہ دیگر ممالک کے جہاز محدود سطح پر اس راستے سے گزر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بناتا ہے تو ایران اس کے جواب میں خطے میں توانائی کے نظام، معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔