وفاقی آئینی عدالت نے کم عمری میں شادی اور نکاح سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہل کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے، جبکہ کم عمری کی شادی کے حوالے سے قانون میں صرف فوجداری سزا کا ذکر موجود ہے۔
عدالت نے لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے ان کے قبولِ اسلام اور شہریار نامی شخص سے نکاح کو درست قرار دیا، اور کہا کہ شرعی اصولوں کے تحت اس نکاح میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
ماریہ بی بی نے اسلام قبول کرنے کے بعد شہریار سے شادی کی تھی، جس پر ان کے والد نے اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا، تاہم یہ مقدمہ بعد ازاں خارج کر دیا گیا، جبکہ حبس بے جا کی درخواستیں بھی آئینی عدالت نے مسترد کر دی تھیں۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ میں کم عمری کے نکاح کو کالعدم قرار دینے کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں، بلکہ اس حوالے سے صرف سزا کا تعین کیا گیا ہے، اس لیے نکاح کو خود بخود غیر مؤثر نہیں کہا جا سکتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ ماریہ بی بی نے نکاح سے قبل اسلام قبول کیا تھا جس کا باقاعدہ اعلان اور ثبوت موجود ہے، جبکہ حبس بے جا کی درخواست میں لڑکی کی عمر اور متعلقہ دستاویزات کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا گیا۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ آئینی تشریح کے لیے حتمی فورم وفاقی آئینی عدالت ہے، اور یہ عدالت سپریم کورٹ کے ایسے فیصلوں کی نظیریں ماننے کی پابند نہیں جو آئین یا قانون سے متصادم ہوں۔