پشاور: خیبرپختونخوا میں رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران لیے گئے قرضوں کا مجموعی حجم 809 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس سے صوبائی مالی صورتحال پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
محکمہ خزانہ کی دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے مجموعی طور پر 102 ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے حاصل کیے، جن کے تحت خطیر رقم مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لی گئی۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ قرض عالمی بینک سے حاصل کیا گیا، جہاں 46 منصوبوں کے لیے 352 ارب 50 کروڑ روپے فراہم کیے گئے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے 44 منصوبوں کے لیے 351 ارب 80 کروڑ روپے کا قرض لیا گیا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ جولائی سے دسمبر کے دوران حکومت نے قرضوں اور سود کی مد میں مجموعی طور پر 25 ارب 56 کروڑ روپے ادا کیے، جن میں 15 ارب 81 کروڑ روپے اصل قرض کی واپسی اور 9 ارب 75 کروڑ روپے سود کی ادائیگی شامل ہے۔
اس حوالے سے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ بجٹ میں 180 ارب روپے قرض کا تخمینہ رکھا گیا تھا، تاہم موجودہ قرضے دراصل پہلے سے طے شدہ معاہدوں کا حصہ ہیں اور یہ رقم جاری ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جا رہی ہے۔