صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی رائے کے مطابق سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا تھا، جس کے باعث ٹرائل کی شفافیت پر سوالات اٹھے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ 1973ء کا آئین بھٹو دور کی ایک بڑی اور اہم کامیابی ہے، جو آج بھی ملک کے آئینی ڈھانچے کی بنیاد کے طور پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کو منصفانہ ٹرائل فراہم نہیں کیا گیا تھا، جبکہ عالمی رہنماؤں نے بھی اس مقدمے کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا، جس سے اس کیس کی حساسیت مزید واضح ہوتی ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد اس کیس کو دوبارہ کھولا گیا، جس کے بعد قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔
انہوں نے سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کی جمہوری جدوجہد کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
آصف علی زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف اور قانون کی بالادستی ہر حال میں یقینی بنانا ضروری ہے، اور تمام اداروں کو قانون اور انصاف کے تقاضوں کی پاسداری کرنی چاہیے تاکہ نظام عدل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔