وزیراعظم شہباز شریف امن مشن کے تیسرے مرحلے کے تحت ترکیے کے شہر انطالیہ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اہم سفارتی سرگرمیوں میں شرکت کریں گے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ روابط کو فروغ دیں گے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق انطالیہ کے گورنر ہلوسی شاہین نے ایئرپورٹ پر وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ اس موقع پر ترکیے میں پاکستان کے سفیر یوسف جنید اور دیگر اعلیٰ سفارتی حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعظم کل پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے، جہاں وہ “لیڈرز پینل” میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور خطے کی صورتحال سمیت عالمی امور پر اظہار خیال کریں گے۔
فورم کے موقع پر وزیراعظم کی ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں باہمی تعاون اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور وزیراعظم کے ترجمان برائے بین الاقوامی میڈیا مشرف زیدی بھی وفد میں شامل ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم نے قطر کے دورے کے دوران امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی، جس میں خلیج کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم نے ایک بار پھر قطر اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
یاد رہے کہ امن مشن کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم نے جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی، جس میں انہیں امریکا ایران جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔
اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امن عمل میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تعمیری کردار کو سراہا اور ان کی کوششوں کو مثبت قرار دیا۔























































































