شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اَن نے حالیہ برسوں میں اپنے جوہری پروگرام کو غیر معمولی رفتار سے وسعت دینے کا اعلان کیا ہے، جس نے عالمی سطح پر نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ دفاعی ماہرین اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق پیانگ یانگ کی یہ حکمت عملی محض عسکری طاقت بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی، سفارتی اور سلامتی سے متعلق کئی اہم عوامل موجود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اپنی بقا اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جوہری ہتھیاروں کو بنیادی دفاعی ڈھال سمجھتا ہے۔ پیانگ یانگ کا مؤقف ہے کہ امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں مضبوط جوہری صلاحیت کسی بھی بیرونی مداخلت یا ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا اب صرف جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے پر توجہ نہیں دے رہا بلکہ مختلف فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، جدید جوہری وار ہیڈز اور متنوع عسکری صلاحیتوں کی تیاری پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد ممکنہ تنازعے کی صورت میں زیادہ مؤثر اور لچکدار دفاعی حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔
بعض ماہرین کے نزدیک کم جونگ اَن کی حکومت جوہری پروگرام کو سفارتی دباؤ کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر بھی استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق جوہری صلاحیت میں اضافہ مستقبل کے مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے، پابندیوں میں نرمی اور بین الاقوامی رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان مسلسل خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ شمالی کوریا کا جوہری اور میزائل پروگرام خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی مختلف پابندیوں کے باوجود پیانگ یانگ اپنے عسکری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے، جس سے عالمی برادری کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری ذخیرے میں تیزی سے ہونے والا اضافہ صرف خطے ہی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بن چکا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی سفارت کاری اور سیکیورٹی پالیسیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔





















































































