امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی پالیسیوں نے ایران کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے اور وہ کمزور پوزیشن میں آ چکا ہے۔
ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق امریکی کانگریس کی قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ قرارداد بے وقت اور بے معنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض سینیٹرز نے ان کے لیے معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، تاہم وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا، “میں ہمیشہ اپنا کام مکمل کرتا ہوں اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔”
دوسری جانب امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی محدود کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ سینیٹ میں قرارداد 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور ہوئی، جبکہ یہ قرارداد اس ماہ کے آغاز میں ایوانِ نمائندگان سے بھی منظور ہو چکی تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کی یہ قرارداد ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی پر داخلی اختلافات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک جانب سخت مؤقف رکھنے والے حلقے موجود ہیں جبکہ دوسری جانب سفارتی حل کو ترجیح دینے والے ارکان بھی سرگرم ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اس قسم کے بیانات اور سیاسی اقدامات خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔





















































































