ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا سے متعلق دستخطی عمل کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
محمد باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر مزید مشاورت کیلئے عمان پہنچ گئے ہیں، جہاں علاقائی اور بحری سلامتی کے معاملات پر بات چیت جاری رہے گی۔
اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے براہِ راست رابطے کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی یا تصادم سے بچا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے دوران ایران کے 12 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی گئی۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق مذاکرات میں لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام اور تحفظ پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
ادھر ایران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور کچھ منجمد اثاثوں تک رسائی بحال کرنے کے اقدامات پر پیش رفت ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی تیل کی فروخت سے متعلق بعض پابندیاں نرم کیے جانے کے بعد ایران کو محدود مدت کیلئے عالمی منڈیوں میں اپنی پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی سہولت حاصل ہوگی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا، کیوبا اور یوکرین کے حوالے سے ایرانی تیل کی خریداری پر عائد پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔




















































































