اسلام آباد: پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی (PPS) نے خودکشی کی کوشش کو دوبارہ جرم قرار دینے سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ میں چیلنج کر دیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے کے حکومتی اقدام کو کالعدم قرار دینے والی قانون سازی کو غیر اسلامی قرار دینے کا فیصلہ درست نہیں، لہٰذا اسے منسوخ کیا جائے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ قرآن مجید، سنت نبوی ﷺ اور فقہی اجماع میں ایسی کوئی واضح ہدایت موجود نہیں جو خودکشی کی کوشش کرنے والے شخص کے لیے فوجداری سزا کو لازمی قرار دیتی ہو۔
واضح رہے کہ فیڈرل شریعت کورٹ نے 18 مئی کو اپنے فیصلے میں فوجداری قوانین (ترمیمی) ایکٹ 2022 کے اس حصے کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے تحت پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 325 ختم کر کے خودکشی کی کوشش کو جرم کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔
وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ خودکشی کی کوشش کو جرم کے دائرے سے نکالنا اسلامی احکامات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی کا مؤقف ہے کہ خودکشی کی کوشش کرنے والے افراد عموماً ڈپریشن، شدید ذہنی دباؤ یا دیگر نفسیاتی امراض کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے انہیں سزا دینے کے بجائے علاج، مشاورت اور ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق فوجداری کارروائی ایسے افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ طبی معاونت اور بحالی کے اقدامات زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ میں زیر سماعت آئے گا، جہاں یہ طے کیا جائے گا کہ خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینا اسلامی اور آئینی تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔





















































































