کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر حملے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے مبینہ دہشت گرد نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزم نے اپنی شناخت عثمان علی کے نام سے کرائی اور دعویٰ کیا کہ وہ افغانستان کے شہر جلال آباد سے پاکستان آیا تھا۔
تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ حملے میں اس کے ساتھ عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق بھی شامل تھے، جن میں سے عبدالہادی کارروائی کے دوران مارا گیا۔
ملزم کے مطابق رینجرز کیمپ پر بم جانان نے پھینکا جبکہ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لے کر آیا تھا۔
گرفتار دہشت گرد نے مزید بتایا کہ وہ اور اس کے ساتھی سات روز قبل پاکستان میں داخل ہوئے تھے، جہاں انہیں ایک زیرِ تعمیر عمارت میں ٹھہرایا گیا۔
اس کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد فرار کی کوشش کے دوران اسے گولی لگی، جس کے باعث وہ زخمی ہو گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے گرفتار کر لیا۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ اس کے انکشافات کی مختلف پہلوؤں سے تصدیق بھی کی جا رہی ہے۔






















































































