ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے دوران عالمی تیل کی منڈی ایک نئے رجحان کی گواہ بنی، جہاں قیمتوں کے تعین میں روایتی تیل پیدا کرنے والے ممالک کے بجائے چین کا کردار زیادہ نمایاں دکھائی دیا۔
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل سپلائی شدید دباؤ کا شکار رہی، تاہم تیل کی قیمتیں ماضی کے بڑے جغرافیائی بحرانوں کی طرح غیر معمولی سطح تک نہیں پہنچ سکیں۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ چین کی حکمت عملی تھی۔ چین نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران جمع کیے گئے اپنے اسٹریٹجک تیل ذخائر استعمال کیے اور خام تیل کی درآمدات میں تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ کمی کر دی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی درآمدات میں کمی کے باعث عالمی منڈی میں طلب کم ہوئی، جس سے سپلائی میں دباؤ کے باوجود قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق چین اب دنیا کا سب سے بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے اس کی خریداری یا طلب میں معمولی تبدیلی بھی عالمی منڈی پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ بحران نے یہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں چین کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ روایتی جغرافیائی اور پیداواری عوامل کی اہمیت نسبتاً کم ہو سکتی ہے۔
اقتصادی مبصرین کے مطابق اگر چین مستقبل میں بھی اپنے ذخائر اور درآمدی پالیسی کو اسی انداز میں استعمال کرتا رہا تو عالمی توانائی منڈی میں اس کا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔





















































































