یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے صرف چند دنوں میں ایک ہزار سے زائد افراد کی جان لے لی ہے، حالانکہ 35 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے کئی ممالک میں عام بات سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فرق کی کئی اہم وجوہات ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق 20 جون سے یورپ کے مختلف ممالک شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں، جہاں متعدد علاقوں میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا، جبکہ گرمی کے باعث عجائب گھر، تعلیمی ادارے اور دیگر عوامی مقامات بھی متاثر ہوئے۔
یورپ میں یہی درجۂ حرارت زیادہ خطرناک کیوں؟
انسانی جسم کی موافقت (Adaptation)
ہر خطے کے لوگ اپنی مقامی آب و ہوا کے مطابق جسمانی طور پر خود کو ڈھال لیتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء کے عوام کا جسم زیادہ گرمی برداشت کرنے کا عادی ہوتا ہے، جبکہ یورپ کے زیادہ تر ممالک میں سال کا بڑا حصہ ٹھنڈا رہتا ہے، اس لیے وہاں کے شہری اچانک شدید گرمی کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔
عمارتوں کا ڈیزائن
جنوبی ایشیاء میں گھروں اور عمارتوں کی تعمیر گرم موسم کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے تاکہ ہوا کا گزر بہتر رہے، جبکہ یورپ میں عمارتیں سردیوں میں گرمی محفوظ رکھنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جس کے باعث گرمیوں میں گھروں کے اندر درجۂ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔
گرم راتیں
حالیہ ہیٹ ویو کے دوران یورپ میں رات کا درجۂ حرارت بھی غیر معمولی طور پر بلند رہا، جس سے انسانی جسم کو ٹھنڈا ہونے کا موقع نہیں ملا۔ مسلسل کئی دن اور رات گرمی برقرار رہنے سے خاص طور پر بزرگ افراد کے لیے خطرات بڑھ گئے۔
زیادہ نمی (Humidity)
زیادہ نمی کی صورت میں پسینہ بخارات بن کر جلد خشک نہیں ہوتا، جس سے جسم کا قدرتی کولنگ سسٹم متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ یورپی ہیٹ ویو میں بلند نمی بھی اموات کی ایک بڑی وجہ بنی۔
سب سے زیادہ متاثر کون؟
رپورٹس کے مطابق گرمی کی اس شدید لہر میں زیادہ تر متاثرہ افراد 65 سال یا اس سے زائد عمر کے تھے، کیونکہ بزرگ افراد کا جسم درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے کی صلاحیت نسبتاً کم رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مستقبل میں یورپ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں اس نوعیت کی شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ سکتی ہیں۔





















































































