تہران: آبنائے ہرمز اور دیگر بحری گزرگاہوں سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان آج بات چیت ہوگی، جبکہ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف اقتصادی جنگ جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز سے تیل برآمد کرنے سے متعلق امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات کے حوالے سے کیے جانے والے دعوے زمینی حقائق کے بجائے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بلغاریہ کو بھی خبردار کیا ہے کہ امریکی طیاروں کو ری فیولنگ کی سہولت فراہم کرنے کی صورت میں اسے ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے بھی امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے خلاف اقتصادی جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے نہیں دیا جائے گا۔
محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف بار بار عائد کی جانے والی امریکی پابندیاں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ماضی میں بھی ایران کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات کرچکا ہے، تاہم یہ اقدامات اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں آبنائے ہرمز اور بحری گزرگاہوں سے متعلق معاملات پر گفتگو کی جائے گی۔





















































































