پاکستان میں دو دہائیوں کے وقفے کے بعد سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت مزید 21 پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں پر دستخط بھی کر دیے گئے ہیں۔
وزارت پیٹرولیم کے اعلامیے کے مطابق ابتدائی تین سال کے لیے لائسنس مدت کے پہلے مرحلے میں 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ڈرلنگ تک پیش رفت کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق سندھ اور بلوچستان کی ساحلی حدود سے متصل انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں مختلف بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت مجموعی طور پر 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل 23 بلاکس کی منظوری دی گئی، جبکہ دو آف شور ڈیپ سی بلاکس کے معاہدے گزشتہ سال 2 دسمبر کو وزیراعظم ہاؤس میں طے پا چکے تھے۔
مزید 21 پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں پر دستخط کے بعد معاہداتی فریم ورک مکمل ہو گیا ہے، جسے توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے معاہدوں پر دستخط حکومت کی توانائی پالیسی میں تاریخی سنگ میل ہیں، جبکہ آف شور بڈ راؤنڈ کی کامیاب تکمیل شفاف اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان منصوبوں سے مستقبل میں توانائی کے شعبے میں ملکی خود انحصاری بڑھنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ہے۔
























































































