لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں مرکزی ملزم نعمان سے ابتدائی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر طالبہ کو دھوکا دینے کیلئے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے مختلف افراد کی شناخت اختیار کی اور جعلی دستاویزات فراہم کیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نعمان 2022 تک 15 سال اینٹی کرپشن کا ملازم رہا تاہم اسے غیر حاضری پر ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔ بعد ازاں وہ مختلف انشورنس کمپنیوں میں بطور منیجر کام کرتا رہا اور 2025 میں بلیو ایریا میں ایک انشورنس کمپنی جوائن کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نعمان کا لائبہ سے پہلا رابطہ مارچ 2023 میں ہوا، جب لائبہ نے ایک انشورنس کمپنی میں انٹرن شپ کیلئے درخواست دی تھی۔ ملزم کو اسٹاف کی ضرورت تھی جس پر اس نے لائبہ سے رابطہ کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق لائبہ نے نعمان سے ملاقات کی تاہم ٹیوشن پڑھانے کی وجہ سے وہ دفتر جوائن نہ کرسکی، بعد میں ملزم نے ٹک شاپ کی تشہیر کے کام کیلئے لائبہ، اس کی بہن اور والدہ کو رکھ لیا۔
ذرائع کے مطابق عائزہ نامی لڑکی ٹک شاپ کا انتظام کرکے لائبہ، اس کی بہن اور والدہ کو دیتی تھی جبکہ عائزہ کا بھائی امریکا میں مقیم تھا۔ لائبہ نے امریکی ویزے کیلئے نعمان سے عائزہ کی مدد حاصل کرنے کو کہا۔
پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نعمان نے لائبہ کو یقین دلایا کہ وہ عائزہ کے بھائی کے ذریعے امریکی ویزا حاصل کرنے میں مدد کرے گا، جس کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر عائزہ کے نام سے ایک اور اکاؤنٹ بناکر لائبہ سے بات چیت شروع کردی۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر عائزہ اور اس کے بھائی کا کردار ادا کیا اور لائبہ کو مختلف دستاویزات بھیجیں، جس پر ابتدا میں اسے کوئی شک نہیں ہوا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نعمان نے ویزا انٹرویو کی تاریخ پہلے یکم ستمبر، پھر 17 ستمبر اور بعد میں 26 ستمبر بتائی، بار بار تاریخ تبدیل ہونے پر لائبہ کو شک ہوا اور دستاویزات کی جانچ کرانے پر وہ مبینہ طور پر جعلی نکلیں۔
ذرائع کے مطابق لائبہ نے اپنے والد سے 21 لاکھ روپے کا پلاٹ فروخت کرکے رقم حاصل کی جبکہ اپنی سوتیلی والدہ کے زیورات بھی نعمان کو دیے تھے۔ لائبہ پر زیورات واپس کرنے کا دباؤ تھا اور اس نے نعمان سے کہا تھا کہ باقی رقم کا معاملہ بعد میں دیکھا جائے لیکن اس کی سوتیلی والدہ کے زیورات واپس کردیے جائیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس کے بعد نعمان نے مبینہ طور پر لائبہ کو نظر انداز کرنا شروع کردیا اور رابطہ منقطع کردیا۔ پولیس تحقیقات میں لائبہ کی خودکشی سے قبل پیش آنے والے ان واقعات اور مبینہ مالی دھوکا دہی کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم نے مزید خواتین کے ساتھ بھی فراڈ کیا ہوسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری سے قبل وقت ملنے کے باعث نعمان نے اپنے موبائل فون کا ڈیٹا حذف کردیا تھا، جسے فارنزک معائنے کے ذریعے بحال کرکے ممکنہ طور پر مزید متاثرین کا سراغ لگانے کی کوشش کی جائے گی۔



















































































