ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ کراچی میں ڈمپرز کو جلانے کے واقعے کے سلسلے میں 14 سے 15 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد دو تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جن میں ایف بی ایریا تھانے اور یوسف پلازہ تھانے کے ایس ایچ اوز شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈمپر مالکان کو اس سے قبل تین ماہ کا وقت دیا گیا تھا کہ وہ اپنی گاڑیوں میں ٹریکرز نصب کریں اور پہیوں کے گرد حفاظتی کور لگائیں تاکہ اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کراچی کے علاقے راشد منہاس روڈ پر ایک ٹریفک حادثے میں بہن اور بھائی جان کی بازی ہار گئے۔ حادثے کے بعد شہری مشتعل ہوگئے اور ڈمپر ڈرائیور پر تشدد کرنے کے بعد 7 ڈمپروں کو آگ لگا دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جس میں قتلِ خطا کی دفعہ شامل کی گئی ہے، جبکہ ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
مدعی مقدمہ کے مطابق حادثے میں اس کی بھتیجی اور بھتیجا جاں بحق ہوئے، جبکہ بھائی زخمی ہوا۔