پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کے فوج سے متعلق حالیہ بیان پر پارٹی کے اندر بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور قیادت نے اس حوالے سے اپنا موقف واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق جب قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران محمود اچکزئی نے فوج کے حوالے سے اپنا مؤقف دہرایا تو چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے فوری طور پر فلور حاصل کر کے فوج سے متعلق پی ٹی آئی کا باضابطہ موقف واضح کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے پارٹی حلقوں میں اضطراب کو جنم دیا کیونکہ اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف کے منصب کے لیے پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے۔
یہ صورتحال اُس وقت سامنے آئی جب وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں اچکزئی کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیا، جس میں مبینہ طور پر فوج کو ’’پنجاب کے چار اضلاع کی فوج‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ وزیر دفاع نے اس بیان کو نامناسب اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی اداروں کے بارے میں اس نوعیت کے بیانات نہیں دیے جانے چاہئیں۔
ایوان میں جواب دیتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ وہ 1990ء کی دہائی سے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے وزیر دفاع کی جانب سے حوالہ دیے گئے بیان کی نہ تو تردید کی اور نہ ہی اسے واپس لیا بلکہ واضح کیا کہ وہ اپنی رائے پر بدستور قائم ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اچکزئی کے ان ریمارکس کے بعد بیرسٹر گوہر نے غیر معمولی طور پر اسپیکر سے فوری خطاب کی اجازت طلب کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جیسے حساس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور تمام سیاسی قوتوں کو متحد بیانیہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ دشمن عناصر کو واضح پیغام دیا جا سکے۔ انہوں نے بھارت اور افغانستان سے سرگرم عناصر کا حوالہ دیتے ہوئے قومی ہم آہنگی پر زور دیا۔
بیرسٹر گوہر نے مسلح افواج کے حوالے سے پارٹی کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فوج ہماری ہے اور ملک ہمارا ہے۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو قوم کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ مسلح افواج سے متعلق پی ٹی آئی کا مؤقف واضح اور غیر مبہم ہے۔
اندرونی ذرائع کے مطابق بعد ازاں بیرسٹر گوہر نے بعض پارٹی قانون سازوں سے ملاقات میں یہ رائے ظاہر کی کہ اس نوعیت کے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے تھا۔ ایک سینئر ذریعے نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ اپوزیشن اتحاد میں اختلافِ رائے ممکن ہے، تاہم قومی اداروں خصوصاً فوج سے متعلق موقف قومی مفاد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق قیادت نے فوری اقدام اس لیے کیا تاکہ محمود اچکزئی کے ریمارکس کو پی ٹی آئی کا سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے۔ بیرسٹر گوہر نے اس حوالے سے موقف دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا مؤقف پہلے بھی واضح کیا جا چکا ہے اور قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔