کراچی کے علاقے سولجر بازار میں گیس سلنڈر کے باعث پیش آنے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے، جبکہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ صبح تقریباً 4 بجے پیش آیا جب ایک رہائشی عمارت میں گیس سلنڈر کا دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سکیورٹی سخت کر دی، جبکہ ریسکیو اداروں نے فوری طور پر سرچ اور ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت تین منزلہ تھی اور ہر منزل پر ایک کمرہ قائم تھا۔ تنگ گلیوں اور محدود رسائی کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم عملہ مسلسل ملبہ ہٹانے میں مصروف ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 16 لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں، جن میں 4 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں، جبکہ 12 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر واجد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکا عمارت کی پہلی منزل پر ہوا، اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ گیس سلنڈر یا گیس کھینچنے والی مشین کے باعث پیش آیا۔ ان کے مطابق ریسکیو ٹیمیں خصوصی آلات کی مدد سے لوہے کے ڈھانچے کو کاٹ کر ملبہ ہٹا رہی ہیں تاکہ ممکنہ طور پر دبے افراد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، اسی لیے آپریشن بدستور جاری ہے اور ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا گیس لیکیج کے باعث ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ملبے میں مزید ایک لاش دبے ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور کیمیکل ایگزامینیشن کے بعد ہی دھماکے کی اصل نوعیت کا تعین کیا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ محکمہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ عمارت قانونی تھی یا غیر قانونی، اور ذمہ داران کے تعین کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔