نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے مرکز برائے زمین و سیاروں کے مطالعات سے وابستہ سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے اور اس کی سطحی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جو مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
ایک نئی سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چاند کی سطح پر ایک ہزار سے زائد نئی دراڑیں دریافت کی گئی ہیں، جس کے بعد آئندہ چاند کے مشنز کی حفاظت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دراڑیں سطحی حرکات اور اندرونی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
یہ تحقیق دی پلینٹری سائنس جرنل میں شائع ہوئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ چاند کی سطح پر دریافت ہونے والی یہ نئی ساختی تبدیلیاں مستقبل میں بھیجے جانے والے خلائی مشنز کو شدید زلزلوں کے ممکنہ خطرے سے دوچار کر سکتی ہیں، جس کے لیے پیشگی تیاری اور محتاط منصوبہ بندی ضروری ہوگی۔
تحقیق کے مرکزی مصنف کول نائپیور نے کہا ہے کہ آنے والے مشنز چاند کی ٹیکٹونک اور سیسمک سرگرمی سے متعلق اہم معلومات اکٹھا کرنے کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے، کیونکہ یہ ڈیٹا چاند کی اندرونی ساخت اور اس کی حرکیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حاصل ہونے والا ڈیٹا نہ صرف مشنز کی حفاظت کو یقینی بنانے میں معاون ہوگا بلکہ سائنسی کامیابی کے لیے بھی براہِ راست فائدہ مند ثابت ہوگا، اور اس وقت چاند کی سائنس اور خلائی تحقیق کے حوالے سے ایک نہایت دلچسپ اور اہم مرحلہ جاری ہے۔
اگرچہ سائنسدان 2010ء سے چاند کے سکڑنے کے عمل سے آگاہ تھے، تاہم نئی دریافت شدہ دراڑیں، جنہیں اسمال میر ریجز کہا جاتا ہے، چاند سے متعلق تحقیق میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی دریافت سے چاند کی زمین، اس کے اندرونی ڈھانچے اور حرارتی تاریخ کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی، جس سے مستقبل کی خلائی تحقیق کو نئی سمت مل سکتی ہے۔