خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر پاکستان کے باہم جڑے ہوئے بچے سفیان اور یوسف اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ ریاض پہنچ گئے۔ اس اقدام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت بچوں کے علاج اور ممکنہ علیحدگی کی سرجری کا انتظام کیا گیا ہے۔
ریاض ائیرپورٹ پہنچنے پر جڑواں بچوں کو فوری طور پر کنگ عبداللہ اسپیشلسٹ چلڈرن اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا جائے گا اور علیحدگی کی سرجری کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ طبی ماہرین بچوں کی صحت کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کریں گے۔
شاہی عدالت کے مشیر، شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے سپروائزر اور جڑواں بچوں کے لیے سعودی پروگرام کی میڈیکل اینڈ سرجیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے اس انسان دوست اقدام پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پیچیدہ طبی مسائل سے دوچار دنیا بھر کے بچوں کی دیکھ بھال کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ریاض میں پاکستانی جڑواں بچیوں یارا اور لارا کی کامیاب علیحدگی کی سرجری کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ تنزانیہ، فلپائن اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے 65 سے زائد بچوں کی بھی کامیاب سرجریز کی جا چکی ہیں۔
واضح رہے کہ ان تمام سرجریز کے اخراجات خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان برداشت کرتے ہیں، جسے عالمی سطح پر ایک اہم فلاحی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔