چین کے صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ چین اپنی ہمسایہ سفارتکاری میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔
بیجنگ میں وزیراعظم شہباز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان نے ایک ناقابل شکست روایتی دوستی قائم کی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہر آزمائش میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
چینی صدر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چین آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ وہ حال ہی میں ایران سے واپس آئے ہیں، اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مثبت سفارتی کوششیں اور ثالثی اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کو یکطرفہ اقدامات اور سرد جنگ کی ذہنیت کی مخالفت کرتے ہوئے اعلیٰ سطح اور وسیع تر سکیورٹی تعاون کو مزید آگے بڑھانا چاہیے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں پاک چین شراکت داری کو اعلیٰ معیار کے تعاون کے نئے مرحلے میں داخل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران سرمایہ کاری، زراعت، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے 15 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاک چین دیرینہ اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آہنی دوستی مشترکہ ترقی، خوشحالی اور تعاون پر مبنی ہے۔
























































































