پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی حکومت کی جانب سے ہوائی جہاز کی خریداری کا معاملہ زیرِ بحث آیا اور ایوان میں اس حوالے سے گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی۔
سوالات کے دوران محکمۂ اطلاعات سے متعلق امور پر گفتگو جاری تھی کہ فضا اس وقت کشیدہ ہوگئی جب پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ عابد نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیر اعلیٰ 11 ارب روپے مالیت کے جہاز پر راجن پور کا دورہ کریں گی۔
اس سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو سندھ حکومت کے طیارے پر سفر کرسکتے ہیں تو یہ پنجاب حکومت کا جہاز ہے اور اس کے استعمال کا اختیار بھی متعلقہ حکومت کو حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ حکومت کی صوابدید پر منحصر ہے۔
بعد ازاں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے دریافت کیا کہ طیارہ کس مد میں خریدا گیا اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے کاغذی جہاز بنا کر ایوان میں لہرا دیے اور حکومت کے اقدام پر اعتراضات اٹھائے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اس موقع پر کہا کہ اگر انہیں جواب دینا ہوتا تو وہ جہاز کی خریداری کو درست قرار دیتے، تاہم اس معاملے پر وضاحت دینا ان کی ذمہ داری نہیں۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کی صحت اور قید سے متعلق بھی بات کی گئی، جس پر حکومتی رکن رانا ارشد نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو اپنے دورِ حکومت کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
اسی دوران حکومتی رکن احسن رضا نے بانی پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے نامناسب الفاظ استعمال کیے، جس پر ایوان میں غیر پارلیمانی القابات کی گونج سنائی دی۔ اسپیکر نے فوری مداخلت کرتے ہوئے غیر پارلیمانی الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت جاری کی اور کہا کہ قائدین کے خلاف غلط زبان کا استعمال قابل قبول نہیں۔