سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات کورونا وبا سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو رہے ہیں، جن کے باعث عالمی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے امریکا کے شہر میامی میں ایک سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور مختلف شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سپلائی چین میں شدید تعطل پیدا ہو چکا ہے، اور موجودہ حالات کے باعث عالمی معیشت پر دور رس اور سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
محمد الجدعان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے گزشتہ 50 برسوں کے دوران پائپ لائن انفرااسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، جس سے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیل، گیس، کھاد اور دیگر اہم شعبوں کی عالمی منڈیوں پر جنگ کے اثرات نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں، جس سے معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سعودی وزیر خزانہ کے مطابق سرمایہ کار استحکام، یقینی صورتحال، ترقی کے امکانات اور رسک کے مطابق منافع کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ سعودی معیشت سرمایہ کاری کے لیے اب بھی ایک پرکشش موقع فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات نے ثابت کیا ہے کہ خلیجی ممالک باہمی تعاون کے ذریعے مزید مضبوط اور مستحکم ہوئے ہیں، اور اس اشتراک عمل سے ریئل اسٹیٹ، ٹیکنالوجی، دفاع اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔