کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے جنگ کے جواز کے لیے مذہب کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کرنے والوں کی دعائیں خدا قبول نہیں کرتا۔
سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پام سنڈے کی دعائیہ تقریب سے خطاب کے دوران پوپ لیو نے کہا کہ مذہب کو جنگ کے جواز کے طور پر پیش کرنا ایک خطرناک رجحان ہے، جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کی اپیل بھی کی، تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور امن کی راہ ہموار ہو۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران جنگ میں شامل مختلف فریقین کی جانب سے جنگی اقدامات کو مذہبی بنیادوں پر درست ثابت کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی ایران جنگ کو مسیحیوں کی جانب سے اپنے دشمنوں کو شکست دینے کی کوشش کے طور پر بیان کیا، جس سے اس بیانیے کو مزید تقویت ملی ہے۔