نامور برطانوی جریدے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی اور قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو رہی ہیں۔
رپورٹ میں بھارتی دفاعی تجزیہ کار سوشانت سنگھ کے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا، جبکہ بھارت مشرق وسطیٰ کے مذاکراتی عمل سے باہر ہو گیا اور امریکا میں اپنا اثر و رسوخ کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔
مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان، ترکیے، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل ایک علاقائی بلاک ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کر رہا ہے۔
بھارتی تجزیہ کار کے مطابق پاکستان نے چین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو برقرار رکھا ہے، جبکہ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے فیلڈ مارشل کو ثالثی کے لیے ترجیح دی جا رہی ہے، جس کے برعکس بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سفارتی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے۔