امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد پاکستان عالمی سطح پر اہم سفارتی مرکز بن گیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان اہم مذاکرات آج اور کل اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفود کی سطح پر ابتدائی مذاکرات آج ہوں گے جبکہ مرکزی اور اہم مرحلہ ہفتے کو متوقع ہے، جس میں اعلیٰ سطح کے رہنما شریک ہوں گے۔
امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی شرکت متوقع ہے، جبکہ ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے مقام کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا تاکہ اس اہم سفارتی عمل کو محفوظ اور کامیاب بنایا جا سکے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکا کی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی ملاقات ہوئی، جس میں محسن نقوی نے کہا کہ امریکی نائب صدر اور دیگر اعلیٰ حکام پاکستان کے خصوصی مہمان ہوں گے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حساس نوعیت کی بات چیت بند کمروں میں ہوگی اور امریکا صرف وہی معاہدہ کرے گا جو اس کے بہترین مفاد میں ہوگا۔
یہ مذاکرات خطے میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں، اور عالمی برادری کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں۔