کراچی میں میٹرک کے سالانہ امتحانات کا آج سے باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، تاہم امتحانی مراکز میں مسلسل تبدیلی کے باعث طلبہ اور والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
امتحانات سے قبل غیر یقینی صورتحال اس وقت مزید بڑھ گئی جب متعدد طلبہ کے ایڈمٹ کارڈز پر درج امتحانی مراکز آخری وقت میں تبدیل کر دیے گئے، جس پر والدین نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔
طلبہ کو ایڈمٹ کارڈز کے اجراء اور آن لائن رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس پر وزیر تعلیم سندھ محمد اسماعیل راہو نے گزشتہ روز چیئرمین میٹرک بورڈ کراچی پر برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے مراسلے کے ذریعے ہدایت جاری کی کہ اس سنگین غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، اور اگر تین روز کے اندر تسلی بخش جواب نہ دیا گیا تو تادیبی اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ناظم امتحانات نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، اور کمشنر آفس میں مانیٹرنگ سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے تاکہ امتحانی عمل کی نگرانی کی جا سکے۔
امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں سائبر سکیورٹی کے تحت واٹس ایپ گروپس پر نظر رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے تاکہ پرچوں کے لیک ہونے کو روکا جا سکے۔
ناظم امتحانات کے مطابق اگر کوئی طالب علم کسی وجہ سے پہلے روز اپنے مقررہ مرکز نہ پہنچ سکے تو وہ قریبی امتحانی مرکز میں بھی امتحان دے سکتا ہے۔