امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک اہم قرارداد منظور کر لی ہے جس کے تحت صدر Donald Trump کے یکطرفہ فوجی کارروائی کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد ڈیموکریٹک اراکین کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جسے 215 ووٹوں کی حمایت اور 208 ووٹوں کی مخالفت سے منظور کیا گیا۔
ووٹنگ کے دوران چار ریپبلکن اراکین نے بھی اپنی جماعت کی پالیسی سے ہٹ کر قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جسے ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
منظور شدہ قرارداد کے مطابق ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی یا جنگی اقدام سے قبل کانگریس کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی، جبکہ انتظامیہ تنہا اس نوعیت کا فیصلہ نہیں کر سکے گی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی قانون سازوں میں ایران سے متعلق پالیسی پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اختلافات اب صرف اپوزیشن تک محدود نہیں رہے بلکہ حکمران جماعت کے بعض اراکین بھی مختلف آراء رکھتے ہیں۔
کانگریس کے متعدد اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی آئین کے تحت جنگ شروع کرنے یا فوجی کارروائی کی اجازت دینے کا اختیار بنیادی طور پر قانون ساز ادارے کے پاس ہے، اس لیے ایسے اہم فیصلوں میں کانگریس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس قرارداد کی منظوری امریکا کی داخلی سیاست، ایران پالیسی اور مشرق وسطیٰ میں مستقبل کے ممکنہ فوجی اقدامات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔























































































