میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے دوران یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ مقتول کی شناخت مٹانے کے لیے ان کے چہرے اور ہاتھوں پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق فرانزک تجزیے کے لیے بھیجی گئی شرٹ اور دیگر شواہد کی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ میر رضا کے چہرے اور ہاتھوں پر تیزاب کے اثرات موجود تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مقتول کی شناخت چھپانا تھا۔
دوسری جانب میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی نئی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج منعقد ہوگا، جس میں واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
پانچ رکنی کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عامر فاروقی کریں گے، جبکہ ایس ایس پی علی رضا کو کمیٹی کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
ہفتے کے روز قبر کشائی کے بعد جاری ہونے والی ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق میر رضا کو پیچھے سے گولی لگی تھی، جبکہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے تھے۔
رپورٹ میں دائیں ران اور جبڑے کی ہڈی ٹوٹنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر خون کے نشانات کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتائج فرانزک رپورٹ مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔






















































































