وزیر دفاع خواجہ آصف نے میر رضا کیس کے معاملے پر حکومت سندھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سامنے آنے والے حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورا نظام کمپرومائزڈ تھا۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اس معاملے پر مسلسل توجہ دینے کے نتیجے میں حقائق سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ جس انداز سے اس کیس کی تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پورا نظام کمپرومائزڈ تھا۔
وزیر دفاع کے مطابق اب بھی اس معاملے پر کڑی نگرانی کی ضرورت ہے، کیونکہ ماضی کی طرح دوبارہ بھی معاملات طے کیے جانے کا خدشہ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے والے افراد کو بھی بے نقاب کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب حکومت سندھ نے میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کا کہنا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ میر رضا کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جبکہ متضاد رپورٹس سے متعلق حتمی فیصلہ کمیشن یا عدالت کرے گی۔
واضح رہے کہ خواجہ آصف کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میر رضا کیس کی تحقیقات مختلف مراحل سے گزر رہی ہیں اور اس حوالے سے مختلف دعوے اور رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔




















































































