کھٹمنڈو: نیپال اور چین کے خود مختار علاقے تبت میں تباہ کن سیلاب کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 810 تک پہنچ گئی جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق نیپال اور تبت میں لاپتہ ہونے والوں میں مجموعی طور پر 48 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ چین کی جانب متاثرہ علاقوں میں 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے 261 غیر ملکی لاپتہ ہیں، جن میں 15 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔
نیپال کی جانب سے اس سے قبل 33 برطانوی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
بدھ کو ہمالیہ میں ایک بڑے گلیشیئر کے گرنے کے نتیجے میں اچانک آنے والے سیلاب نے نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
نیپالی پولیس کے مطابق ملک میں اب تک 794 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 2 ہزار 742 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
چینی حکام کے مطابق سرحد کے چینی حصے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث امدادی ٹیموں کو ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
چین نے امدادی سرگرمیوں کے لیے 2 ہزار 100 سے زائد امدادی کارکن تعینات کیے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں فضائی راستے سے بھی امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔
برطانیہ نے نیپال کے لیے 50 لاکھ پاؤنڈ کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے فوری امدادی ٹیم کھٹمنڈو روانہ کردی ہے۔
امریکا اور آسٹریلیا سمیت متعدد ممالک نے بھی نیپال کے لیے انسانی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نیپال اور چین کی سرحد پر سیلاب سے متاثر ہونے والے برطانوی شہریوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے متعلقہ حکام سے مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔






















































































