کراچی: پاکستان نے مالی سال 2026 کے دوران تقریباً 57 کروڑ ڈالر مالیت کی ماہی مصنوعات دنیا بھر کو برآمد کرکے نیا ریکارڈ قائم کردیا۔
میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے مطابق پاکستانی ماہی مصنوعات کی یورپی یونین کے اسٹورز تک رسائی سے عالمی منڈی میں پاکستان پر اعتماد کی بحالی کی عکاسی ہوتی ہے۔
محکمے کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان خام مال برآمد کرنے کے بجائے ماہی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے تو اس شعبے کی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھائی جاسکتی ہیں۔
میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے مطابق نئی صدی کی مشکل ترین چوتھائی گزرنے کے بعد پاکستان کے لیے عالمی حالات مختلف سطحوں پر تبدیل ہوئے ہیں، ملک کی ماہی اجناس اپنے ذائقے اور اقسام کے باعث نمایاں مقام رکھتی ہیں اور اب ان کی ویلیو ایڈیشن پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ یورپی یونین نے 2007 میں پاکستان سے ماہی مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔
سال 2013 میں پاکستان کی 4 کمپنیوں کو یورپی منڈی تک جزوی رسائی حاصل ہوئی، جس کے بعد کئی برسوں کی کوششوں کے نتیجے میں اب یورپی برانڈز کا پاکستانی ماہی مصنوعات پر اعتماد بحال ہوا ہے۔
میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے مطابق برآمدات میں موجودہ اضافہ پاکستان کی ماہی گیری کی صنعت کے لیے اہم پیش رفت ہے جبکہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے ذریعے عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔





















































































