پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کی مبینہ حراست کے خلاف درخواست پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے 10 روز کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے ان کے بھائی محمد عامر نے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ سہیل آفریدی کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے اور ایمرجنسی یا گورنر راج کے دوران بھی وزیراعلیٰ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔
عدالت نے فریقین سے پوچھا کہ آیا وزیراعلیٰ گرفتار ہیں یا کسی مقدمے میں نامزد کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں عدالت نے آئی جی، سی سی پی او، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ مانگی ہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ سہیل آفریدی کی موجودگی اور حیثیت سے متعلق رپورٹ 10 روز میں جمع کرائی جائے۔
کیس کی مزید سماعت 3 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

















































































