وفاقی وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سرکاری قرضوں میں دس سال کے دوران 340 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد جون 2026 تک مجموعی حجم 86 ہزار 700 ارب روپے ہوگیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس برس میں سرکاری قرضے میں 67 ہزار ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جون 2016 میں قرضوں کا مجموعی حجم 19 ہزار 700 ارب روپے تھا، جو جون 2026 میں بڑھ کر 86 ہزار 700 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 تک مجموعی سرکاری قرضے میں مقامی قرضوں کا حصہ 59 ہزار 400 ارب روپے اور غیر ملکی سرکاری قرضوں کا حجم 27 ہزار 300 ارب روپے تھا۔
اس کے مقابلے میں جون 2016 تک 19 ہزار 700 ارب روپے کے مجموعی قرضے میں 13 ہزار 600 ارب روپے مقامی اور 6 ہزار 100 ارب روپے غیر ملکی سرکاری قرضہ شامل تھا۔
رپورٹ میں سال وار تفصیلات بھی دی گئی ہیں، جن کے مطابق جون 2017 تک مجموعی سرکاری قرضہ 21 ہزار 400 ارب روپے ہوگیا، جبکہ جون 2018 تک یہ بڑھ کر 24 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔
جون 2019 میں سرکاری قرضوں کا مجموعی حجم 32 ہزار 700 ارب روپے رہا اور جون 2020 تک 36 ہزار 400 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق جون 2021 تک سرکاری قرضہ مزید بڑھ کر 39 ہزار 900 ارب روپے ہوگیا تھا۔




















































































