امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ امریکا جلد ایران کے خلاف دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران پر جلد مزید حملے کے امکان کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو بری طرح نشانہ بنا چکا ہے اور ممکن ہے کہ مزید کارروائی بھی کی جائے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹرز پر جنگ کے اثرات کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایک لحاظ سے وہ اسے پسند کرتے ہیں، کیونکہ وہ ایسا کام کر رہے ہیں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ دوسری جانب ممکن ہے ووٹرز اسے پسند نہ کریں۔ ان کے مطابق اس کی ایک قیمت چکانا پڑتی ہے اور قدم اٹھاتے ہی انہیں اس کا اندازہ تھا، تاہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اس سے پہلے امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بات چیت نہیں ہو رہی اور تنازع کے بارے میں جلد کچھ نہ کچھ ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف فوجی اور مالی اعتبار سے بہت اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔
بعد میں امریکی صدر نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے اس وقت گزرنے والے تیل کی مقدار فروری میں تنازع شروع ہونے سے پہلے سے بھی زیادہ ہے، اسی لیے ایران حملوں اور بارودی سرنگوں سے متعلق جھوٹے واقعات گھڑ رہا ہے۔
ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے اور ان کی افواج ممکنہ کارروائیوں کی مشقیں تیز کر چکی ہیں۔ ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز اور میزائلوں اور ڈرونز کے ذخائر شامل ہیں۔


















































































