لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے 3 ستمبر کو ملک گیر پُرامن ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔
پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی، لاہور اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں دھرنے 13ویں روز بھی جاری ہیں۔
لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ احتجاج اب صرف تین شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے کئی شہروں میں بیک وقت دھرنے دیے جارہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے میں 3 ستمبر کو ملک بھر میں پُرامن ہڑتال کی جائے گی۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ دھرنوں سے آگے بڑھا کر بازاروں اور سڑکوں تک پھیلایا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر عوام کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی کیا جائے گا جبکہ ملک گیر ہڑتال سے پہلے یا اس کے بعد بھی اسلام آباد جانے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ ڈال کر انہیں بنیادی حقوق سے محروم کردیا ہے، اس لیے اب حکومت کو لوگوں کو حقیقی ریلیف فراہم کرنا ہوگا۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی وژن ہے اور نہ صلاحیت، جبکہ عوام مسلسل مہنگائی اور ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا کررہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے پمز اسپتال میں 14 بچوں کی ہلاکتوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور اسے نااہلی کا نتیجہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں مناسب حفاظتی اقدامات موجود نہیں تھے جبکہ ڈاکٹروں اور عملے کی تربیت کے لیے بھی مؤثر نظام نہیں تھا۔






















































































