واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں اب سابقہ قیادت باقی نہیں رہی اور وہاں نئی قیادت سامنے آ رہی ہے، جبکہ امریکا ایران میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اس بات پر رضامند ہو گیا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، اور اس بار ایران کی جانب سے سنجیدگی اور سمجھداری کے ساتھ بات کی جا رہی ہے، کیونکہ اب امریکا ان افراد سے بات کر رہا ہے جو معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ایران میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں، ان کے بقول ایران کی بحری اور فضائی قوت کو تباہ کر دیا گیا ہے اور وہاں کی قیادت کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، جسے انہوں نے نظام کی تبدیلی سے تعبیر کیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے امریکا کو تیل اور گیس سے متعلق ایک بڑا تحفہ دیا گیا ہے، جو نہایت قیمتی ہے اور اس کا تعلق آبنائے ہرمز سے ہے، جبکہ اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں نئی قیادت ابھری ہے اور دیکھنا ہوگا کہ وہ کس طرح کام کرتی ہے، تاہم ان کے مطابق یہ نئی قیادت معاہدہ کرنے کی طرف جا رہی ہے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ ایران سے جاری مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شریک ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے ایران کے معاملے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔