کورونا وبا کے بعد دنیا بھر میں صفائی اور جراثیم کش عادات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم طبی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ حد سے زیادہ صفائی انسانی مدافعتی نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
نئی سائنسی تحقیق کے مطابق مکمل طور پر جراثیم سے پاک ماحول جسم کی قدرتی قوتِ مدافعت کو کمزور کر دیتا ہے، کیونکہ مدافعتی نظام کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے جراثیم سے ایک حد تک واسطہ درکار ہوتا ہے۔
ہائجین ہائپوتھیسس کیا کہتا ہے؟
سائنسی نظریہ ہائجین ہائپوتھیسس کے مطابق بچپن میں جراثیم اور ماحول میں موجود آلودگی سے مناسب حد تک رابطہ ضروری ہوتا ہے، کیونکہ یہی عمل مدافعتی نظام کو سیکھنے اور بیماریوں سے لڑنے کے قابل بناتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جن بچوں کو ابتدائی زندگی میں قدرتی جراثیم کا کم سامنا ہوتا ہے، ان میں الرجی، دمہ اور خودکار مدافعتی بیماریوں کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ سینیٹائزیشن کے نقصانات
ماہرین کے مطابق بار بار ہینڈ سینیٹائزر، اینٹی بیکٹیریل اسپرے اور غیر ضروری صفائی کے استعمال سے جسم کے مفید بیکٹیریا بھی ختم ہو جاتے ہیں، جو آنتوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں۔
شہری طرزِ زندگی میں جراثیم سے حد سے زیادہ بچاؤ کو خوراک سے پیدا ہونے والی الرجی، آنتوں کے مسائل اور مدافعتی کمزوری کے ساتھ بھی جوڑا جا رہا ہے۔
بالغ افراد بھی متاثر
تحقیقی جرائد میں شائع مطالعات کے مطابق جراثیم سے مکمل دوری نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کے مدافعتی نظام کو بھی متاثر کرتی ہے، جس کے باعث مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جراثیم کا غیر حقیقی خوف، ضرورت سے زیادہ صفائی اور بار بار سینیٹائزر کا استعمال الرجی، دمہ اور آٹو امیون بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔
اینٹی بائیوٹکس کا بے جا استعمال
ماہرین کے مطابق عام بیماریوں میں اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضروری استعمال بھی جسم کے مائیکروبائیوم کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں مدافعتی نظام کا توازن بگڑ سکتا ہے۔
متوازن صفائی کیوں ضروری؟
طبی ماہرین کے مطابق مکمل جراثیم کش زندگی اپنانے کے بجائے ’متوازن صفائی‘ اختیار کرنا زیادہ ضروری ہے، جس میں صفائی کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول سے مناسب رابطہ بھی برقرار رکھا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہو تو سینیٹائزر کے بجائے پانی اور صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں، غیر ضروری جراثیم کش اسپرے کے استعمال سے گریز کیا جائے، قدرتی ماحول، باغبانی اور بیرونی سرگرمیوں سے مکمل دوری نہ رکھی جائے، جبکہ مفید بیکٹیریا کے توازن کو برقرار رکھنے والی خوراک اپنائی جائے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق صفائی ضروری ہے، تاہم حد سے زیادہ صفائی نقصان دہ ہو سکتی ہے، کیونکہ مضبوط مدافعتی نظام کے لیے جسم کو جراثیم سے مکمل دوری نہیں بلکہ متوازن رابطہ درکار ہوتا ہے، اور اصل مقصد جراثیم سے پاک زندگی نہیں بلکہ ایک متوازن اور سمجھدار طرزِ زندگی اختیار کرنا ہے۔