کراچی پریس کلب میں “پریس کی آزادی اور میڈیا کو درپیش چیلنجز” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں مقررین نے پاکستان میں صحافت کو درپیش مسائل، اظہارِ رائے کی آزادی، میڈیا ورکرز کے معاشی بحران اور سنسرشپ کے خاتمے پر زور دیا۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی سپریم کورٹ کے سابق جج اور سابق نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر تھے۔ تقریب کی میزبانی سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن حسین نقی نے کی، جبکہ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے رہنما طاہر حسن خان، پروفیسر ریاض شیخ، سینئر صحافی توصیف احمد، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے وائس چیئرمین اسد بٹ، سینئر صحافی مظہر عباس اور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے بھی خطاب کیا۔
سیمینار کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے میڈیا انڈسٹری میں بے روزگاری، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور سنسرشپ کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ ملک میں آزاد صحافت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
اپنے خطاب میں جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ ایک شعوری اور مسلسل سیاسی عمل ہے، جس کی مضبوطی کے لیے آزاد، خودمختار اور ذمہ دار صحافت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
ناصر منصور نے کہا کہ آزادیِ اظہار کے لیے جدوجہد صحافیوں کے لیے دوہرا چیلنج بن چکی ہے، جبکہ حسین نقی نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ میں قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا قومی سطح پر مؤثر سیاسی قیادت کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔



















































































