ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران امریکی اور اسرائیلی اقدامات کو فراموش یا معاف کر دے گا۔
تہران میں پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے طریقہ کار کو آج یا کل حتمی شکل دی جائے گی، جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط جمعہ کے روز جنیوا میں متوقع ہیں جبکہ تقریب سے قبل ایرانی حکام پڑوسی ممالک کے دورے بھی کریں گے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جنگ کا خاتمہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہونا چاہیے اور لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کا احترام مفاہمتی یادداشت کا بنیادی حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران، عمان اور دیگر ممالک کے تعاون سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بحری گزرگاہ بنانے کیلئے اقدامات کرے گا جبکہ مخصوص مدت کیلئے بحری خدمات کی فیس بھی وصول کی جائے گی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور ہرجانے کی ادائیگی کا وعدہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو کوئی نیا سرمایہ نہیں دے گا بلکہ منجمد اثاثے ایران کا حق ہیں اور انہیں واپس کیا جانا چاہیے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران کو اپنے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کی مکمل اجازت بھی ملنی چاہیے اور اگر امریکا اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہا تو اسے جوابی اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا پہلے بھی افزودہ یورینیم ایران سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کر چکا ہے اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ ایران امریکی اور اسرائیلی اقدامات کو معاف کر دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اپنے خلاف ہونے والے مظالم، اپنی قیادت کی قربانیوں اور جنگ کے نقصانات کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
اسماعیل بقائی نے عالمی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا ایرانی عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے طویل اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔




















































































