اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وزارت صحت کے تمام ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس ٹیسٹ لازمی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو ملازم ٹیسٹ نہیں کرائے گا اس کی تنخواہ روک دی جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزارت صحت کے ملازمین کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ لازمی ہوگی، جبکہ دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین کے ٹیسٹ کرانے کے لیے بھی متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر صحت نے ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کی اسکریننگ ہونی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں بھی ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ کی جائے گی تاکہ متاثرہ افراد کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جاسکے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ڈی پورٹ ہوکر پاکستان واپس آنے والے افراد کی اسکریننگ بھی لازمی قرار دے دی گئی ہے، جبکہ تین ماہ تک تمام فلائٹس کو بھی اسکریننگ کے عمل سے گزارا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ادارہ شماریات نے اسکریننگ کے عمل کے لیے گیجٹس فراہم کیے ہیں، جبکہ مردم شماری کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کو نادرا کے ریکارڈ کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماری ہے اور اس وقت ملک میں ایک کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی پازیٹو ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی اسکریننگ ضرور کرائیں۔
مصطفیٰ کمال نے پنجاب سے متعلق کہا کہ وفاقی حکومت کو صوبے سے مطلوبہ ڈیٹا فراہم نہیں کیا جارہا، اس معاملے پر وہ خود وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنے جارہے ہیں۔




















































































