لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کو زبردستی کا ٹیکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حکومت گھٹنے نہیں ٹیکے گی احتجاج اور دھرنے جاری رہیں گے۔
پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف لاہور میں فیصل چوک مال روڈ پر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمران ٹولے نے عوام کو ایک بڑی مصیبت سے دوچار کردیا ہے، حکومت صرف پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھاتی بلکہ اس کے ساتھ ٹیکسوں میں بھی اضافہ کردیتی ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ آج لاہور میں دھرنا شروع کردیا گیا ہے اور یہ احتجاج جاری رہے گا، جبکہ گورنر ہاؤس کراچی کے باہر بھی جماعت اسلامی کا دھرنا جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت گھٹنے نہیں ٹیکے گی یہ جدوجہد جاری رہے گی اور ہمیں یقین ہے کہ حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے کمیٹی بنانے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی بریفنگ کی ضرورت نہیں، حکومت کو اس کی کمیٹی مبارک ہو، ہم بریفنگ لینے کے لیے اسلام آباد نہیں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جسے بات کرنی ہے وہ دھرنے میں آئے اور مذاکرات صرف ایک نکتے پر ہوں گے کہ پیٹرولیم لیوی واپس لی جائے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک پر مسلط موجودہ نظام کا عوام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ نظام اب مزید نہیں چل سکتا۔
انہوں نے پیٹرولیم لیوی کو زبردستی کا بھتہ ٹیکس اور جگا ٹیکس قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
حافظ نعیم نے جاگیردارانہ نظام اور ٹیکس پالیسی پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ مسلم لیگ ن کے کتنے جاگیرداروں نے اپنی جاگیروں پر ٹیکس ادا کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ یہ جاگیردارانہ نظام نہیں چل سکتا، غریب کاشتکار کا خون نچوڑا جارہا ہے جبکہ بڑے جاگیردار ٹیکس ادا نہیں کرتے، بڑے بیوروکریٹس ٹیکس کا پیسا کھا جاتے ہیں اور حکمران اپنی مراعات چھوڑنے کے بجائے غریب عوام پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔
خیال رہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف کراچی، لاہور اور پشاور میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے جاری ہیں۔




















































































