اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی اہلکار ایران کی زیر زمین فردو جوہری تنصیب کو سمجھنے کے لیے کئی مرتبہ اس کا دورہ کرچکے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یوسی کوہن نے کہا کہ فردو جوہری تنصیب کو سمجھنے کے لیے متعدد مرتبہ وہاں کا دورہ کیا گیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان میں کون لوگ شامل تھے۔
یوسی کوہن نے 2025 میں ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے دوران فردو جوہری تنصیب پر کیے گئے حملے کو بھی سراہا۔
سابق موساد چیف نے فردو پر امریکی بمباری کے حوالے سے کہا کہ امریکیوں کی جانب سے اس تنصیب پر بمباری ان کے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔
فردو کے علاوہ ایران کی نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات بھی جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران امریکی حملوں کا نشانہ بنی تھیں، جن کے نتیجے میں ان تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
ایران کے 60 فیصد افزودہ یورینیم سے متعلق یوسی کوہن کا کہنا تھا کہ یہ اب بھی ایٹم بم بنانے سے بہت دور ہے۔
تاہم جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ یورینیم کی 60 فیصد افزودگی ہتھیاروں کے لیے درکار سطح کے بہت قریب ہے اور اسے مزید افزودہ کرکے جوہری ہتھیاروں کے قابل مواد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ یوسی کوہن 2015 سے 2021 تک اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رہے۔ عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے ایک غیر معمولی ٹی وی انٹرویو میں ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف موساد کی کارروائیوں کے حوالے سے متعدد اہم اشارے بھی دیے تھے۔





















































































