پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے میں مستقبل میں مزید ممالک کی شمولیت کا اشارہ دے دیا۔
صحافیوں کو ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ 7 اگست کو ہونے والا مکہ سمٹ انتہائی اہمیت کا حامل رہا اور پاکستان نے مکہ معاہدے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان برادرانہ تعلقات میں ایک اہم پیشرفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ امن و سلامتی کے حوالے سے صرف تین ممالک تک محدود نہیں ہے اور معاہدے کے مطابق خطے اور اس سے باہر اجتماعی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا بنیادی مقصد امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے، تاہم فی الحال یہ معلوم نہیں کہ مستقبل میں کون سے ممالک اس معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی قیادت میں قائم بحری اتحاد کے معاہدے کو آپریشنل بنانے کے لیے بھی تیار ہے۔





















































































